Basti / بستی 
جس قدر مقبولیت ان کے اس ناول "بستی" کو حاصل ہے، مجھ ایسے کم فہم انسان کی ناقص علمی کہیئے یا کچھ اور کہ میں اس مقبولیت کا راز نہ پا سکا۔
میرے جزبات و احساسات میں یہ ناول اس قدر ارتعاش نہ پیدا کر سکا جتنی میری توقعات تھیں، شاید معروف کتابوں کی خرابی یہی ہوتی ہے کہ ان سے امیدیں بہت وابستہ کر لی جاتی ہیں۔
کتاب میں چند ایک مقامات بہرطور ایسے ضرور ہیں جو قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں اور خیالات کی عمیق کھائیوں میں ڈبو دیتے ہیں۔
یہ ناول ایک ٹوٹ کر بکھرتے ہوئے انسان کی سرگزشت ہے جس نے قیام پاکستان اور ہجرت کی کرب ناکیوں میں اپنی اوائل عمری اور جوانی اور پھر سقوط ڈھاکہ جیسے سانحے کے ساتھ اپنی ڈھلتی عمر کے دن بتائے۔ اور ایک خوابیدگی سی کیفیت میں خود کو محسور پایا۔
جیسے بقول جون ایلیاء:
اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں
خوابوں ہی میں صرف ہوچکا ہوں
گردش دوراں میں شہر لاہور کے بدلتے رنگ اور لوگوں کے بدلتے نظریات اور مزاج نے مصنف کو ایک مستقل مخمسے میں الجھائے رکھا اور وہ اس بات کی کھوج میں پھرتا رہا کہ ہم نے جس بستی کو خود بسایا تھا اس کو ہم خود ہی کیوں آگ لگا رہے ہیں اور وہ اکثر خود سے اور قاری سے سوال طلب نظر آیا کہ ہم سب کون ہیں اور یہ سب کیا ہے اور ہم نے اپنی شناخت کو پالیا ہے یا کھو دیا ہے یا پاکر کھودیا ہے۔
ہر کردار وحشت اور خوف میں گھرا ہوا، پراگندہ خیالات و جزبات کا ایک جھکڑ ہر نفس کے اندر چلتا ہوا محسوس ہوا۔ خوف اور ناامیدی کی تیز و تند آندھیوں میں الجھتے سلجھتے بکھرتے لوگ کسی بھی ایک سمت میں خود کو لے جانے سے قاصر کہ جانے اگلا دن کیا قیامت لے کر آجائے۔ وہ سانحہ ہی اس قدر اندوہناک تھا کہ جس میں ہم نے خود اپنا ایک بازو کاٹ ڈالا۔
یہ کہانی ایک بستی کی نہیں، ہر اس بستی کی روداد ہے جہاں ظلم بولتا ہے اور انصاف نے کانوں میں روئ ٹھونس رکھی ہوتی ہے۔
"جب گیدڑ بولتے ہیں، شیر چپ ہوجاتے ہیں"
I read this book in my native language Urdu. Although there are good reviews from the people who have read its transalations but still I do not know how much have been lost in the transalation. But I do agree it is a challenging and difficult book to read. It is a story about the painful experience of partition of India & Pakistan. Then another painful experience of separation of East Pakistan and the war of 1971. The book contains everything, drama, memory, philosophy and mythology.
A very beautiful book. Loved, loved it. Intizar Hussain sbs style, storytelling, use of idioms, proverbs, and character building is outstanding. They way he treats the story, moving in & out of different time zones, portraying the pain, anguish , anger & frustration of post-partition era is stunning. No doubt its a famous, talked about classic of Urdu literature .

This book - a little slow to get into - is excellent. A young boy from a Muslim family leaves India for Pakistan and later, as a young man, is faced with his family's experience in the Bangladesh War and with violence between India and Pakistan. Not particularly about the violence of Partition, more about the results on an emotional level for one boy and his family. References to violence in India in the 19th century. There is a good little introduction that gives some of the relevant history
Intizar Hussain is a short-story writer but this novel is a testament to the fact that he is a master of writing. Written in the backdrop of independence riots, this novel explores the hideous atrocities and the dark face of war in an extremely beautiful way. His pungent words strikes deeply into the chasms of human heart invoking images that are so vivid that one feels like floating in that era.
Intizar Husain (19252016) was a journalist, short-story writer, and novelist, widely considered one of the most significant fiction writers in Urdu. Born in Dibai, Bulandshahr, in British-administered India, he migrated to Pakistan in 1947 and lived in Lahore. Besides Basti, he was the author of two other novels, Naya Gar (The New House), which paints a picture of Pakistan during the ten-yearبستی ایک داستان ہے ہجرت کی بچھڑی محبتوں بچھڑے درخت چرند پرند اور بچھڑے حال کی اور جو اس سب کے بدلے ملا اس پر منڈلائے جنگی اثرات کی اور پھر ایک اور المیہ کی جو سن سینتالیس کے بعد سن اکہتر میں واقع ہوا میرے نزدیک یہ ایک اجتماعی حادثہ نہیں تھا یہ حادثہ صرف مشرقی پاکستان والوں کا تھا پر اس بار اس میں ہاتھ انگریز کا نہیں اپنوں کا مغربی پاکستان کا تھا اس موضوع سے متعلق ناول کے ایک منظر میں مرکزی کردار ذاکر اس سانحے/شکست کی ذمہ داری ہر شخص پر عائد کرتا یے "بستی برباد ہوتی ہے تو اس کے ساتھ وہ دکھ بھی
Intizar Husain
Hardcover | Pages: 256 pages Rating: 3.92 | 52 Users | 9 Reviews

Describe Books During Basti / بستی
Edition Language: | Urdu |
Literary Awards: | Adamjee Literary Award for Urdu Prose (1980) |
Ilustration To Books Basti / بستی
اردو ادب میں انتظار حسین صاحب کو بلند پایاں مقام حاصل ہے اور یہ کتاب میرا ان سے اولین تعارف ہے۔جس قدر مقبولیت ان کے اس ناول "بستی" کو حاصل ہے، مجھ ایسے کم فہم انسان کی ناقص علمی کہیئے یا کچھ اور کہ میں اس مقبولیت کا راز نہ پا سکا۔
میرے جزبات و احساسات میں یہ ناول اس قدر ارتعاش نہ پیدا کر سکا جتنی میری توقعات تھیں، شاید معروف کتابوں کی خرابی یہی ہوتی ہے کہ ان سے امیدیں بہت وابستہ کر لی جاتی ہیں۔
کتاب میں چند ایک مقامات بہرطور ایسے ضرور ہیں جو قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں اور خیالات کی عمیق کھائیوں میں ڈبو دیتے ہیں۔
یہ ناول ایک ٹوٹ کر بکھرتے ہوئے انسان کی سرگزشت ہے جس نے قیام پاکستان اور ہجرت کی کرب ناکیوں میں اپنی اوائل عمری اور جوانی اور پھر سقوط ڈھاکہ جیسے سانحے کے ساتھ اپنی ڈھلتی عمر کے دن بتائے۔ اور ایک خوابیدگی سی کیفیت میں خود کو محسور پایا۔
جیسے بقول جون ایلیاء:
اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں
خوابوں ہی میں صرف ہوچکا ہوں
گردش دوراں میں شہر لاہور کے بدلتے رنگ اور لوگوں کے بدلتے نظریات اور مزاج نے مصنف کو ایک مستقل مخمسے میں الجھائے رکھا اور وہ اس بات کی کھوج میں پھرتا رہا کہ ہم نے جس بستی کو خود بسایا تھا اس کو ہم خود ہی کیوں آگ لگا رہے ہیں اور وہ اکثر خود سے اور قاری سے سوال طلب نظر آیا کہ ہم سب کون ہیں اور یہ سب کیا ہے اور ہم نے اپنی شناخت کو پالیا ہے یا کھو دیا ہے یا پاکر کھودیا ہے۔
ہر کردار وحشت اور خوف میں گھرا ہوا، پراگندہ خیالات و جزبات کا ایک جھکڑ ہر نفس کے اندر چلتا ہوا محسوس ہوا۔ خوف اور ناامیدی کی تیز و تند آندھیوں میں الجھتے سلجھتے بکھرتے لوگ کسی بھی ایک سمت میں خود کو لے جانے سے قاصر کہ جانے اگلا دن کیا قیامت لے کر آجائے۔ وہ سانحہ ہی اس قدر اندوہناک تھا کہ جس میں ہم نے خود اپنا ایک بازو کاٹ ڈالا۔
یہ کہانی ایک بستی کی نہیں، ہر اس بستی کی روداد ہے جہاں ظلم بولتا ہے اور انصاف نے کانوں میں روئ ٹھونس رکھی ہوتی ہے۔
"جب گیدڑ بولتے ہیں، شیر چپ ہوجاتے ہیں"
Be Specific About Containing Books Basti / بستی
Title | : | Basti / بستی |
Author | : | Intizar Husain |
Book Format | : | Hardcover |
Book Edition | : | 3rd edition |
Pages | : | Pages: 256 pages |
Published | : | 1983 by Sang-e-Meel Publications |
Categories | : | Fiction |
Rating Containing Books Basti / بستی
Ratings: 3.92 From 52 Users | 9 ReviewsEvaluation Containing Books Basti / بستی
بستی ایک داستان ہے ہجرت کی بچھڑی محبتوں بچھڑے درخت چرند پرند اور بچھڑے حال کی اور جو اس سب کے بدلے ملا اس پر منڈلائے جنگی اثرات کی اور پھر ایک اور المیہ کی جو سن سینتالیس کے بعد سن اکہتر میں واقع ہوا میرے نزدیک یہ ایک اجتماعی حادثہ نہیں تھا یہ حادثہ صرف مشرقی پاکستان والوں کا تھا پر اس بار اس میں ہاتھ انگریز کا نہیں اپنوں کا مغربی پاکستان کا تھا اس موضوع سے متعلق ناول کے ایک منظر میں مرکزی کردار ذاکر اس سانحے/شکست کی ذمہ داری ہر شخص پر عائد کرتا یے "بستی برباد ہوتی ہے تو اس کے ساتھ وہ دکھ بھیI read this book in my native language Urdu. Although there are good reviews from the people who have read its transalations but still I do not know how much have been lost in the transalation. But I do agree it is a challenging and difficult book to read. It is a story about the painful experience of partition of India & Pakistan. Then another painful experience of separation of East Pakistan and the war of 1971. The book contains everything, drama, memory, philosophy and mythology.
A very beautiful book. Loved, loved it. Intizar Hussain sbs style, storytelling, use of idioms, proverbs, and character building is outstanding. They way he treats the story, moving in & out of different time zones, portraying the pain, anguish , anger & frustration of post-partition era is stunning. No doubt its a famous, talked about classic of Urdu literature .

This book - a little slow to get into - is excellent. A young boy from a Muslim family leaves India for Pakistan and later, as a young man, is faced with his family's experience in the Bangladesh War and with violence between India and Pakistan. Not particularly about the violence of Partition, more about the results on an emotional level for one boy and his family. References to violence in India in the 19th century. There is a good little introduction that gives some of the relevant history
Intizar Hussain is a short-story writer but this novel is a testament to the fact that he is a master of writing. Written in the backdrop of independence riots, this novel explores the hideous atrocities and the dark face of war in an extremely beautiful way. His pungent words strikes deeply into the chasms of human heart invoking images that are so vivid that one feels like floating in that era.
Intizar Husain (19252016) was a journalist, short-story writer, and novelist, widely considered one of the most significant fiction writers in Urdu. Born in Dibai, Bulandshahr, in British-administered India, he migrated to Pakistan in 1947 and lived in Lahore. Besides Basti, he was the author of two other novels, Naya Gar (The New House), which paints a picture of Pakistan during the ten-yearبستی ایک داستان ہے ہجرت کی بچھڑی محبتوں بچھڑے درخت چرند پرند اور بچھڑے حال کی اور جو اس سب کے بدلے ملا اس پر منڈلائے جنگی اثرات کی اور پھر ایک اور المیہ کی جو سن سینتالیس کے بعد سن اکہتر میں واقع ہوا میرے نزدیک یہ ایک اجتماعی حادثہ نہیں تھا یہ حادثہ صرف مشرقی پاکستان والوں کا تھا پر اس بار اس میں ہاتھ انگریز کا نہیں اپنوں کا مغربی پاکستان کا تھا اس موضوع سے متعلق ناول کے ایک منظر میں مرکزی کردار ذاکر اس سانحے/شکست کی ذمہ داری ہر شخص پر عائد کرتا یے "بستی برباد ہوتی ہے تو اس کے ساتھ وہ دکھ بھی
0 Comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.